مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في ولد الزنا يدعيه الرجل يقول هو: (ابني)، هل يرثه؟ باب: ولد الزنا کا بیان جس کے نسب کا کوئی آدمی دعویٰ کرے اور وہ کہے کہ یہ میرا باپ ہے، کیا وہ اس کا وارث ہو گا؟
حدیث نمبر: 33553
٣٣٥٥٣ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن (شباك) (١) عن إبراهيم قال: لا يرث ولد الزنا، (ولا) (٢) يرث من لا يقام على أبيه الحد (و) (٣) يملك أمه بنكاح أو شراء.مولانا محمد اویس سرور
شباک روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم نے فرمایا، کہ حرامی بچہ وارث نہیں ہوگا، صرف وہ بچہ وارث ہوگا جس کے باپ پر حد قائم نہ کی جائے ، اور اس کی ماں نکاح یا خریداری کے ذریعے سے ملکیت میں آئی ہو۔
حواشی
(١) في [أ، هـ]: (سماك).
(٢) في [هـ]: (إنما)، وانظر الخبر في مسائل أحمد لإسحاق بن منصور ٢/ ٤٢٢.
(٣) في [هـ]: (أو).