مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
الغرقى من كان يورث بعضهم من بعض باب: غرق ہو جانے والوں کا بیان، اور ان لوگوں کا بیان جو ڈوبنے والوں کو ایک دوسرے کا وارث بناتے ہیں
حدیث نمبر: 33475
٣٣٤٧٥ - حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن رجل عن قبيصة بن ذؤيب أن طاعونا وقع بالشام فكان أهل البيت يموتون جميعًا، فكتب عمر أن يورث الأعلى من الأسفل، وإذا لم يكونوا كذلك ورث هذا من ذا وهذا من ذا (١).مولانا محمد اویس سرور
قبیصہ بن ذؤیب کہتے ہیں کہ شام میں طاعون واقع ہوگیا چناچہ ایک ایک گھر والے سب کے سب مر جایا کرتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ لکھا کہ اوپر والے کو نیچے والے کا وارث بنایا جائے، اور اگر ایسی صورت نہ ہو تو وہ ایک دوسرے کے وارث بنا دیئے جائیں، سعید فرماتے ہیں کہ اوپر والے کو نیچے والے کا وارث بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے مرنے والا اس طرح مرتا تھا کہ وہ اپنا ہاتھ دوسرے کے پہلو پر رکھے ہوتا۔
حواشی
(١) مجهول؛ لإبهام راويه.