مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في ابن الملاعنة إذا ماتت أمه، من يرثه ومن عصبته باب: لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کا بیان، کہ جب اس کی ماں مر چکی ہو تو اس کا کون وارث ہو گا، اور کون اس کا عصبہ ہے؟
حدیث نمبر: 33456
٣٣٤٥٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن داود بن أبي هند عن عبد اللَّه بن عبيد ابن عمير قال: كتبت إلى أخ لي في بني (زريق) (١): لمن قضى رسول اللَّه ﷺ (٢) بابن الملاعنة، فكتب (إلي أن) (٣) رسول اللَّه ﷺ قضى به لأمه، هي بمنزلة أبيه ومنزلة أمه (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ میں نے بنو زریق کے اندر رہنے والے اپنے ایک بھائی سے خط کے ذریعے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کا فیصلہ کس کے لئے کیا تھا ؟ انہوں نے جواب میں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ اس کی ماں کے لئے کیا تھا، اس کی ماں اس کے لئے ماں اور باپ دونوں کے قائم مقام ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (دريق).
(٢) زيادة في [ب]: (ألحقه).
(٣) في [أ، ب]: (إليَّ)، وسقط: (أن).