حدیث نمبر: 33417
٣٣٤١٧ - حدثنا يعلى عن يحيى عن القاسم قال: توفي رجل وترك (جدتيه أم أمه وأم أبيه) (١) فورث أبو بكر (أم أمه) (٢) وترك الأخرى، فقال (٣) رجل من الأنصار: لقد تركت امرأة لو أن الجدتين ماتتا (وابنهما) (٤) حي ما ورث من التي ⦗٣٢٦⦘ ورثتها منه شيئًا، وورث التي تركت ابن (ابنه) (٥) فورثها أبو بكر فشرك بينهما في السدس (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی فوت ہوا اور اس نے اپنی دو دادیاں یعنی نانی اور دادی چھوڑیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نانی کو وارث بنایا اور دوسری کو محروم فرما دیا، تو ایک انصاری نے کہا کہ اگر یہ دو دادیاں فوت ہوچکی ہوتیں اور ان کے بیٹے زندہ ہوتے تو جس دادی کو آپ نے وارث بنایا ہے اس کا بیٹا وارث نہ بنتا، اور جس کو آپ نے چھوڑ دیا ہے اس کا بیٹا وارث بنتا ، چناچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کو بھی وارث بنادیا اور ان کو مال کے چھٹے حصّے میں شریک فرمایا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (جد أبيه امرأته وامرأته)، وفي [س]: (جد ابنة امرأته وامرأته).
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: (امرأته).
(٣) في [هـ]: زيادة (له).
(٤) في [ب]: (أبوهما) وغير واضحة في: [أ].
(٥) في [أ، ب]: (ابن أبيه)، ولعلها (أم أبيه).
(٦) منقطع؛ القاسم لم يدرك أبا بكر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33417
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33417، ترقيم محمد عوامة 31942)