مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في الجدات كم (ترث) منهن؟ باب: اس بات کا بیان کہ کتنی دادیاں وارث ہوں گی؟
٣٣٤١٢ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل قال: قال إبراهيم: (يرث) (١) الجدات السدس، فإن كانت واحدة أو اثنتين أو ثلاثًا فبينهن سهم، في قول علي وزيد إذا اجتمعن ثلاث جدات هن إلى الميت (شرع) (٢) سواء قال: بينهن (سهم) (٣) (سوا) (٤) (تكون) (٥) جدة (من) (٦) الأم وجدة من الأب، أم أبيه وأم أمه، وفي قول عبد اللَّه إذا اجتمعن ثلاث جدات كان بينهن السدس، وإن كان بعضهن أقرب نسبًا، (إن) (٧) لم يكن بعضهن أمهات بعض (٨).فضیل فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے فرمایا کہ دادیاں مال کے چھٹے حصّے کی وارث ہوں گی، پس اگر ایک یا دو یا تین ہوں تو ان کے درمیان حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق ایک ہی حصّہ تقسیم ہوگا، اور جب تین دادیاں جمع ہوجائیں جن میں سے ہر ایک میت کے ساتھ رشتے میں برابر ہو تو ایک ہی حصّہ ان کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، وہ دادیاں ماں کی نانی اور باپ کی ماں اور باپ کی نانی ہیں، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب تین دادیاں جمع ہوجائیں تو ان کے درمیان مال کا چھٹا حصّہ تقسیم ہوگا اگرچہ ان میں سے کوئی دادی نسب میں میت کے زیادہ قریب نہ ہو اس طرح کہ ان میں سے کوئی دوسرے کی ماں نہ ہو۔