حدیث نمبر: 33392
٣٣٣٩٢ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد أن عمر كتب في أمر الجد والكلالة [في كتف ثم طفق يستخير ربه، فلما (طعن) (١) دعا بالكتف فمحاها، ثم قال: إني كنت كتبت كتابًا في الجد والكلالة] (٢)، وإني قد رأيت أن أردكم على ما كنتم عليه، (ولم) (٣) يدروا ما كان في الكتف (٤).مولانا محمد اویس سرور
سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دادا اور کلالہ کے بارے میں ایک کندھے کی ہڈی پر کچھ لکھا، پھر اللہ تعالیٰ سے استخارہ فرمانے لگے، جب آپ زخمی ہوئے تو آپ نے وہ ہڈی منگوائی اور اس کو مٹا دیا ، پھر فرمایا : میں نے دادا اور کلالہ کے بارے میں ایک تحریر لکھی تھی، اب میرا خیال ہوا ہے کہ میں تم لوگوں کو تمہاری حالت پر چھوڑ دوں، پس لوگوں کو کچھ پتہ نہ چل سکا کہ آپ نے کندھے کی ہڈی میں کیا لکھا تھا۔
حواشی
(١) في [ب]: (ظفر).
(٢) سقط من: [أ].
(٣) في [ب]: (فلم).