مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في ابنة وأخت وجد، (أو) أخوات عدة وجد وابنة باب: بیٹی، بہن اور دادا کے مسئلے اور متعدّد بہنوں، بیٹے اور دادا اور بیٹی کے مسئلے کے بیان میں
٣٣٣٦٦ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في رجل ترك ابنته وأخته لأبيه وأمه وجدا، فلابنته النصف ولجده السدس وما بقي فلأخته في قول علي، لم يكن يزيد الجدَ مع الولد على السدس شيئًا، وفي قول عبد اللَّه لابنته النصف، وما بقي فبين الأخت والجد، فإن كانتا أختان فما بقي بين (الأختين والجد) (١) في قول عبد اللَّه وزيد، وفي قول علي: للجد السدس ولأختيه ما بقي، كان كن ثلاث أخوات مع الابنة والجد فللابنة النصف وللجد خمسا ما بقي، وللأخوات ثلاثة أخماس في قول عبد اللَّه وزيد (٢).فضیل ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ جو آدمی اپنی بیٹی، حقیقی بہن اور دادا کو چھوڑ جائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول میں اس کی بیٹی کو آدھا مال، اس کے دادا کو چھٹا حصّہ اور بقیہ اس کی بہن کو دیا جائے گا، اور آپ دادا کو اولاد کے ہوتے ہوئے چھٹے حصّے سے زیادہ نہیں دلاتے تھے، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق اس کی بیٹی کو آدھا مال دیا جائے گا، اور بقیہ مال بہن اور دادا کے درمیان تقسیم کردیا جائے گا، اور اگر ( ایک کی بجائے) دو بہنیں ہوں تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق بقیہ مال بہنوں اور دادا کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق دادا کے لئے مال کا چھٹا حصّہ اور اس کی دونوں بہنوں کے لئے بقیہ مال ہے۔ اور اگر بہنیں تین ہوں اور بیٹی اور دادا ہوں تو بیٹی کو آدھا مال دیا جائے گا، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق دادا کے لئے بقیہ مال کے د و پانچویں حصّے ( ٥/٢) ہوں گے اور بہنوں کے لئے بقیہ تین پانچویں حصّے ہوں گے، حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق دس حصّوں سے نکلے گا ، پانچ حصّے بیٹی کے لئے، دو حصّے دادا کے لئے اور بہنوں کے لئے ایک ایک حصّہ ہوگا۔