حدیث نمبر: 33348
٣٣٣٤٨ - حدثنا وكيع عن سفيان قال: قلت للأعمش: لم سميت الأكدرية؟ قال: طرحها عبد الملك بن مروان على رجل يقال له الأكدر كان ينظر في الفرائض فأخطأ فيها فسماها الأكدرية (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت اعمش سے عرض کیا کہ اس مسئلے کو ” اکدریّہ “ کیوں کہا جاتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ عبد الملک بن مروان نے اس مسئلے کو ایک ” اکدر “ نامی آدمی سے پوچھا تھا، اس نے اس میں غلطی کی تو اس نے اس کو مسئلہ ” اکدریّہ “ کا نام دے دیا۔ حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ ہم حضرت سفیان کی اس تشریح سے پہلے یہ سمجھتے تھے کہ اس مسئلے کا نام اکدریّہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ کا اس مسئلے کے بارے میں فرمان گرد آلود ہے، یعنی انہوں نے اپنی بات کی وضاحت نہیں فرمائی۔

حواشی
(١) قال ابن حجر في الإصابة ١/ ٢١٣: "لعل عبد الملك طرحها على الاكدر -بن همام اللخمي- قديمًا، وعبد الملك يطلب العلم بالمدينة، وإلا فالأكدر قتل قبل أن يلي عبد الملك الخلافة".
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33348
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33348، ترقيم محمد عوامة 31893)