مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في رجل ترك أخاه لأبيه وأمه (أو) أخته وجده باب: اس آدمی کا بیان جو حقیقی بھائی یا بہن اور دادا کو چھوڑ کر مرے
٣٣٣٣٢ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في رجل ترك (جده) (١) وأخاه لأبيه وأمه، فللجد النصف، ولأخيه النصف في قول علي وعبد اللَّه وزيد، قالوا في رجل ترك (جده) (٢) وإخوته لأبيه وأمه: فللجد الثلث وللإخوة الثلثان في قولهم جميعًا (٣).فضیل ابراہیم سے اس مسئلے کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی اپنے دادا اور حقیقی بھائی کو چھوڑ جائے، کہ دادا اور بھائی دونوں حضرت علی، عبد اللہ اور زید رضی اللہ عنہ م کے اقوال کے مطابق آدھے آدھے مال کے مستحق ہوں گے، اور اس آدمی کے بارے میں جو دادا اور دو حقیقی بھائی چھوڑ جائے یہ حضرات فرماتے ہیں کہ دادا کے لئے ایک تہائی مال اور بھائیوں کے لئے دو تہائی مال ہوگا۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ دو حصّوں سے نکلے گا اس صورت میں جبکہ ورثاء میں بہن یا بھائی اور دادا ہوں، تو دادا کے لئے آدھا مال ہے، اور بہن یا بھائی کے لئے بھی آدھا مال ہے، اور اگر وارث ( ایک کی بجائے) دو بھائی ہوں تو دادا کے لئے ایک تہائی مال اور دونوں بھائیوں کے لئے دو تہائی مال ہے۔