مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
إذا ترك إخوة وجدا واختلافهم فيه باب: جب کوئی آدمی بھائیوں اور دادا کو چھوڑ جائے تو کیاحکم ہے؟ اس بارے میں علماء کے اختلاف کا بیان
٣٣٣٢٩ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم قال إن أول جد ورث في الإسلام عمر بن الخطاب فأراد أن يحتاز المال فقلت له: يا أمير المؤمنين إنهم شجرة دونك -يعني: بني (بنيه) (١) (٢).حضرت عبد الرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا دادا جو وارث بنایا گیا وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے ارادہ کیا کہ تمام مال لے لیں ، میں نے کہا اے امیر المؤمنین ! پوتے آپ کے لئے رکاوٹ ہیں۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول میں تین حصّوں سے نکلے گا، ایک تہائی مال دادا کے لئے ہوگا اور باقی مال بھائیوں کے لئے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول میں چھ حصّوں سے نکلے گا ، دادا کے لئے چھٹا حصّہ اور بھائیوں کے لئے بقیہ پانچ حصّے۔