مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في امرأة تركت أختها لأمها وأمها باب: اس عورت کا بیان جس نے اپنی ماں شریک بہن اور اپنی ماں کو چھوڑا
٣٣٢٨٨ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في امرأة تركت أختها لأمها وأمها ولا عصبة لها فلأختها من أمها السدس، ولأمها خمسة أسداس في قضاء عبد اللَّه، وقضى فيها زيد أن لأختها من أمها السدس، ولأمها الثلث، ويجعل سائره في بيت المال، وقضى فيها علي أن لهما المال على قدر ما ورثا، فجعل للأخت من الأم الثلث وللأم الثلثين (١).فضیل ابراہیم سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اس عورت کے بارے میں فرمایا جو عورت اپنی ماں شریک بہن اور اپنی ماں کو چھوڑ جائے اور اس کا کوئی عصبہ نہ ہو اس کی ماں شریک بہن کے لئے چھٹا حصّہ ہے اور اس کی ماں کے لئے پانچ حصّے ہیں، یہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے، اور اس بارے میں حضرت زید رضی اللہ عنہ نے یہ ارشاد فرمایا کہ اس کی ماں شریک بہن کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہے، اور اس کی ماں کے لئے ایک تہائی مال ہے، اور باقی مال بیت المال میں رکھا جائے گا۔ اور اس مسئلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ان دونوں کو مال ان کے وراثت میں حصّے کے مطابق ہے، اس طرح انہوں نے ماں شریک بہن کے لئے ایک تہائی مال اور ماں کے لئے دو تہائی مال کا فیصلہ فرمایا۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق تین حصّوں سے اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی رائے میں چھ حصّوں سے نکلے گا۔