حدیث نمبر: 33249
٣٣٢٤٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم (١) قال: كنت أمشي معه فأدركته امرأة عند الصياقلة (فقالت) (٢): إن مولاتك قد ماتت فخذ ميراثها، قال: هو لك، (قالت) (٣): بارك اللَّه لك فيه، (قال) (٤): أما إنه لو كان (لي) (٥) لم أدعه لك، وإنه لمحتاج يومئذ إلى (تور يصيبه) (٦) من ميراثها من خمسة دراهم، فقلت له: ما هذه منها؟ قال: ابنة أختها لأمها.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اعمش سے روایت ہے کہ میں ابراہیم کے ساتھ چل رہا تھا کہ ان کے پاس صیاقلہ کے بازار کے قریب ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ آپ کی آزاد کردہ باندی فوت ہوگئی ہے آپ اس کی میراث لے لیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ تیرے لیے ہے۔ وہ کہنے لگی اللہ تعالیٰ آپ کے لئے برکت عطا فرمائے ( میں نہیں لینا چاہتی) آپ نے فرمایا کہ اگر اس مال میں میرا حق ہوتا تو میں تمہیں نہ دیتا۔ جبکہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ پانچ درہم کی ایک طشت کے بھی محتاج تھے جو ان کو اس کی وراثت میں سے ملتی۔ ا عمش کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ یہ عورت اس کی کیا لگتی ہے آپ نے فرمایا کہ اس کی ماں شریک بہن کی بیٹی ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (عن علقمة).
(٢) في [ط، هـ]: (قالت).
(٣) في [هـ]: (فقالت).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٦) في [أ، ط، هـ]: (دون نصيبه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33249
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33249، ترقيم محمد عوامة 31813)