مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
من كان يورث ذوي الأرحام دون الموالي باب: ان حضرات کا بیان جو ذوی الأرحام کو وارث قرار دیتے ہیں، اور موالی کو وارث قرار نہیں دیتے
٣٣٢٤٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم (١) قال: كنت أمشي معه فأدركته امرأة عند الصياقلة (فقالت) (٢): إن مولاتك قد ماتت فخذ ميراثها، قال: هو لك، (قالت) (٣): بارك اللَّه لك فيه، (قال) (٤): أما إنه لو كان (لي) (٥) لم أدعه لك، وإنه لمحتاج يومئذ إلى (تور يصيبه) (٦) من ميراثها من خمسة دراهم، فقلت له: ما هذه منها؟ قال: ابنة أختها لأمها.حضرت اعمش سے روایت ہے کہ میں ابراہیم کے ساتھ چل رہا تھا کہ ان کے پاس صیاقلہ کے بازار کے قریب ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ آپ کی آزاد کردہ باندی فوت ہوگئی ہے آپ اس کی میراث لے لیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ تیرے لیے ہے۔ وہ کہنے لگی اللہ تعالیٰ آپ کے لئے برکت عطا فرمائے ( میں نہیں لینا چاہتی) آپ نے فرمایا کہ اگر اس مال میں میرا حق ہوتا تو میں تمہیں نہ دیتا۔ جبکہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ پانچ درہم کی ایک طشت کے بھی محتاج تھے جو ان کو اس کی وراثت میں سے ملتی۔ ا عمش کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ یہ عورت اس کی کیا لگتی ہے آپ نے فرمایا کہ اس کی ماں شریک بہن کی بیٹی ہے۔