مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من قال: على كم (يصلي) (الظهر) قدما (ووقت) ذلك باب: ظہر کی نماز کتنی دیر تک پڑھ جا سکتی ہے؟ یعنی اس کا وقت کیا ہے؟
حدیث نمبر: 3324
٣٣٢٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن منصور عن إبراهيم (قال) (١): (تصلى) (٢) الظهر إذا كان الظل ثلاثة أذرع، وإن عجلت برجل (حاجة) (٣) صلى قبل ذلك، وإن شغله شيء صلى بعد ذلك. قال زائدة: قلت لمنصور: أليس (إنما) (٤) يعني (٥) ذلك في الصيف؟ قال: بلى.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کسی چیز کا سایہ تین ذراع ہو تو اس وقت تک ظہر کی نماز ادا کرنی چاہئے۔ اگر کسی آدمی کو جلدی ہو تو اس سے پہلے ادا کرلے اور اگر کوئی مجبوری ہو تو اس کے بعد ادا کرلے۔ زائدہ کہتے ہیں کہ میں نے منصور سے پوچھا کہ یہ ان کی مراد گرمیوں کے موسم میں نہیں تھی ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں۔
حواشی
(١) تكرر (قال) في [أ، هـ].
(٢) في [ط، هـ]: (نصلي)، وفي [س]: (يصل).
(٣) زيادة الواو في [أ].
(٤) في [جـ، ك]: (إنما)، وفي [أ، ب، هـ]: (إنها).
(٥) في [أ]: (يعني).