حدیث نمبر: 33201
٣٣٢٠١ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام بن (سعد) (١) عن زيد بن أسلم قال: دعي رسول اللَّه ﷺ إلى جنازة رجل من الأنصار، فجاء على حمار ⦗٢٦٨⦘ فقال: "ما ترك؟ " قالوا: ترك عمة وخالة، قال رسول اللَّه ﷺ: "رجل مات وترك عمة وخالة" ثم سار ثم قال: "مات وترك عمة وخالة" ثم قال: "لم أجد لهما شيئًا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک انصاری کے جنازے میں بلایا گیا پس آپ رحمہ اللہ ایک گدھے پر سوار ہو کر تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے کون کون سے رشتہ دار چھوڑے لوگوں نے کہا کہ اس نے ایک پھوپھی اور ایک خالہ چھوڑی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آدمی ہے جو مرا اور مرتے ہوئے ایک پھوپھی اور ایک خالہ چھوڑ گیا پھر تھوڑا چلے اور پھر فرمایا کہ یہ آدمی ہے جس نے مرتے ہوئے پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے پھر فرمایا کہ میں ان کے لئے کوئی حصّہ نہیں پاتا۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (سعيد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33201
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ زيد بن أسلم تابعي، أخرجه عبد الرزاق (١٩١٠٩)، وأخرجه من طريق زيد عن عطاء بن يسار الطحاوي ٤/ ٢٩٦، وسعيد بن منصور ١/ (١٦٣)، وأبو داود في المراسيل (٣٦١)، والدارقطني ٤/ ٩٨، والبيهقي ٦/ ٢١٢، وابن عبد البر في الاستذكار ٥/ ٣٥٩، وأخرجه من طريق زيد عن عطاء عن أبي سعيد الحاكم ٤/ ٣٤٣، والطبراني في الصغير (٩٢٧)، وأخرجه من طريق زيد عن عطاء عن زيد بن ثابت أبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٢٩٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33201، ترقيم محمد عوامة 31770)