مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في زوج وأم وأخوة وأخوات لأب (وأم) (وأخوات) وإخوة لأم من شرك بينهم باب: شوہر اور ماں اور بھائیوں اور حقیقی بہنوں اور ماں شریک بھائیوں اور بہنوں کے بیان میں، اور ان حضرات کا بیان جنہوں نے ان کو شراکت دار قرار دیا
حدیث نمبر: 33179
٣٣١٧٩ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن عبد اللَّه بن محمد بن عقيل قال: ماتت ابنة للحسن بن الحسن، وتركت زوجها وأمها (وإخوتها لأمها) (١) ⦗٢٦٤⦘ وإخوتها لأبيها وأمها، فارتفعوا إلى عمر بن عبد العزيز، فأعطى الزوج النصف، والأم السدس، وأشرك بين الإخوة من الأم والإخوة من الأب والأم، وقال (للزوج) (٢): أمسك عن أترابك، أيلحق بهم سهم آخر حتى (ينظر) (٣) حبلى هي أم لا.مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ بن محمد بن عقیل فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن حسن کی ایک بیٹی فوت ہوگئی اور اس نے شوہر، ماں، ماں شریک بھائی اور حقیقی بھائی چھوڑے، انہوں نے معاملہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تک پہنچایا تو انہوں نے شوہر کو نصف مال اور ماں کو چھٹا حصّہ دیا، اور ماں شریک بھائیوں اور حقیقی بھائیوں کو برابر کا شریک بنایا، اور شوہر سے فرمایا کہ اپنے ہم عمروں سے رکے رہو کہ آیا ان کو ایک اور حصّہ ملتا ہے ؟ یہاں تک کہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں ؟
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب، جـ]: (الزوج).
(٣) في [أ، هـ]: (تنتظر).