مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في زوج وأم وأخوة وأخوات لأب (وأم) (وأخوات) وإخوة لأم من شرك بينهم باب: شوہر اور ماں اور بھائیوں اور حقیقی بہنوں اور ماں شریک بھائیوں اور بہنوں کے بیان میں، اور ان حضرات کا بیان جنہوں نے ان کو شراکت دار قرار دیا
٣٣١٧٤ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في امرأة تركت زوجها وأمها وإخوتها لأبيها (وأمها وإخوتها (لأمها)) (١) (٢)، فلزوجها النصف ثلاثة أسهم، ولأمها السدس سهم، ولإخوتها لأمها الثلث سهمان، ولم يجعل لإخوتها لأبيها وأمها من الميراث شيئًا في قضاء علي، وشرك بينهم عمر وعبد اللَّه وزيد بن ثابت بين الإخوة من الأب والأم مع بني الأم في الثلث الذي ورثوا غير أنهم شركوا ذكورهم وإناثهم فيه سواء (٣).ابراہیم نے ا س عورت کے بارے میں فرمایا جس نے موت کے وقت اپنے شوہر، ماں، حقیقی بھائی اور ماں شریک بھائی چھوڑے کہ اس کے شوہر کے تین حصّے یعنی کل مال کا نصف ہوگا اور اس کی ماں کے لئے ایک حصّہ یعنی کل مال کا چھٹا حصّہ ہوگا، اور اس کے ماں شریک بھائیوں کے لئے دو حصّے یعنی ایک تہائی مال ہوگا، اور آپ نے اس عورت کے باپ اور ماں کو میراث کا کوئی حصّہ نہیں دلایا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے جبکہ حضرت عمر اور عبد اللہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ م نے حقیقی بھائیوں کو ماں شریک بھائیوں کا شریک بنایا اس ایک تہائی مال میں جس کے وہ وارث ہوئے، سوائے اس بات کے کہ ان حضرات نے ان میں سے مردوں اور عورتوں کو برابر حصّہ دلایا۔