حدیث نمبر: 33172
٣٣١٧٢ - حدثنا ابن مبارك عن معمر عن سماك بن الفضل قال: سمعت وهبًا يحدث عن الحكم بن مسعود قال: شهدت عمر أشرك الإخوة من الأب والأم مع الإخوة من (الأم) (١) في الثلث، فقال له رجل: قد قضيت في هذا عام الأول بغير هذا، قال: وكيف قضيت؟ (قال) (٢): جعلته للإخوة للأم ولم تجعل للإخوة من الأب والأم شيئًا، قال: ذلك على ما قضينا، و (هذا) (٣) على ما (نقضي) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حکم بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حقیقی بھائیوں کو ماں شریک بھائیوں کے ساتھ ایک تہائی مال میں برابر شریک کیا، ان سے ایک آدمی نے کہا کہ آپ نے اس جیسے ایک مسئلے میں گذشتہ سال کچھ اور فیصلہ دیا تھا، آپ نے پوچھا کہ میں نے کیا فیصلہ کیا تھا ؟ اس نے کہا کہ آپ نے مال ماں شریک بھائیوں کو دے دیا تھا اور حقیقی بھائیوں کو کچھ نہیں دیا تھا ، آپ نے فرمایا کہ وہ فیصلہ بھی اسی طرح درست تھا جس طرح ہم نے کیا تھا، اور یہ فیصلہ بھی اسی طرح درست ہے جس طرح ہم کر رہے ہیں۔

حواشی
(١) في [أ، جـ]: (ال [ب]، وفي حاشيبة [ب] لعل الصواب من الأم وكلمات غير واضحة.
(٢) في [أ، ب]: (وقال).
(٣) في [م]: (وهذه).
(٤) في [جـ، م]: (قضينا).
(٥) مجهول؛ لجهالة الحكم بن مسعود.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33172
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33172، ترقيم محمد عوامة 31744)