مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في بني عم أحدهم أخ لأم باب: ان چچا زاد بھائیوں کا بیان جن مین سے ایک ماں شریک بھائی بھی ہو
٣٣١٥٦ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في امرأة تركت بني عمها أحدهم أخوها لأمها، قال: فقضى فيها عمر وعلي وزيد؛ أن لأخيها من أمها السدس، وهو شريكهم بعد في المال، وقضى فيها عبد اللَّه أن المال له دون بني عمه (١).ابراہیم فرماتے ہیں کہ جس عورت نے مرتے وقت چچا زاد بھائی چھوڑے جن میں سے ایک اس کا ماں شریک بھائی ہو، اس کے بارے میں حضرت عمر، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ م نے فیصلہ فرمایا کہ اس کے ماں شریک بھائی کو چھٹا حصّہ ملے گا، اور پھر وہ مال میں دوسروں کے ساتھ شریک ہوگا، اور اس کے بارے میں حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ مال اسی کو ہی ملے گا نہ کہ اس میت کے دوسرے چچا زاد بھائیوں کو۔ ابو بکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت عمر، حضرت علی، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق چھ حصّوں سے نکلے گا، اور حضرت عبد اللہ اور شریح رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق ایک حصّے سے نکلے گا، اور وہ پورا مال ہوگا۔