مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
رجل مات وترك أختيه لأبيه وأمه وإخوة وأخوات لأب أو ترك ابنته وبنات (ابنه) وابن (ابنه) باب: اس آدمی کا بیان جس نے مرتے وقت اپنی دو حقیقی بہنیں، اور علاتی بہن بھائی چھوڑے یا ایک بیٹی، بہت سی پوتیاں اور ایک پوتا چھوڑے
٣٣١٤٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن مسروق قال: كان يأخذ يقول عبد اللَّه في أخوات لأم وأبي وإخوة وأخوات لأب، (يجعل) (١) ما بقي على الثلثين للذكور دون الإناث (٢).ابراہیم سے روایت ہے کہ مسروق حقیقی بہنوں اور علّاتی بھائیوں اور علّاتی بہنوں کے بارے میں حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی رائے رکھتے تھے، کہ دو تہائی کے علاوہ بچنے والے مال کو مردوں میں تقسیم کرنے کے قائل تھے نہ کہ عورتوں کے درمیان، چناچہ ایسا ہوا کہ وہ ایک مرتبہ مدینہ منوّرہ تشریف لے گئے اور جب واپس آئے تو ان کی رائے یہ ہوچکی تھی کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان باقی مال بھی تقسیم ہونا چاہیے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے ان سے فرمایا کہ تمہیں حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی رائے سے کس نے پھیرا ؟ کیا تمہارے خیال میں ان سے بھی زیادہ باوثوق شخصیت کوئی ہے ؟ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ نہیں ! لیکن میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے ان کو پختہ علم والے حضرات میں سے پایا اس لئے میں نے ان کی اتباع کی۔