مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفرائض
في رجل مات وترك ابنته وأخته باب: اس آدمی کا بیان جس نے مرتے وقت ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی
٣٣١٣٦ - حدثنا علي بن مسهر (عن الشيباني) (١) عن المسيب بن رافع قال: كنت جالسًا عند عبد اللَّه بن عتبة، وقد أمرني أن أصلح بين الابنة والأخت في الميراث، وقد كان ابن الزبير أمره أن لا يورث الأخت مع الابنة شيئًا، فإني لأصلح ⦗٢٥٣⦘ بينهما عنده إذ جاء الأسود بن يزيد فقال: إني شهدت معاذا باليمن قسم المال بين الابنة والأخت، وإني أتيت ابن الزبير فأعلمته ذلك، فأمرني أن آتيك فأعلمك ذلك لتقضي به وتكتب به إليه، فقال: يا أسود، إنك عندنا لمصدق، فأته فأعلمه ذلك فليقض به (٢).مسیب بن رافع فرماتے ہیں کہ میں عبد اللہ بن عتبہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جبکہ انہوں نے مجھے حکم دیا تھا کہ بیٹی اور بہن کے درمیان صلح کروا دوں، اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کو حکم دیا تھا کہ بہن کو بیٹی کی موجودگی میں وارث نہ بنائیں، میں ان دونوں کے درمیان صلح کروانے کو ہی تھا کہ اسود بن یزید تشریف لائے اور فرمایا کہ میں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن میں دیکھا کہ انہوں نے بیٹی اور بہن کے درمیان مال تقسیم فرمایا تھا، میں نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان کو یہ بات بتائی تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ آپ کے پاس آ کر آپ کو بھی بتادوں تاکہ آپ اس کے مطابق فیصلہ فرما دیں اور یہ بات خط میں لکھ کر ان کی طرف بھیج دیں، اور انہوں نے کہا اے اسود ! آپ ہمارے خیال میں سچے آدمی ہیں ان کے پاس جائیں اور ان کو یہ بات بتائیں تاکہ وہ اس کے مطابق فیصلہ کریں۔ ابو بکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ دو حصّوں سے نکلے گا جن میں سے ایک حصّہ بیٹی کا ہوگا اور ایک بہن کا۔