حدیث نمبر: 33089
٣٣٠٨٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام بن حسان قال: كان أول وصية محمد بن سيرين: هذا ما أوصى به محمد بن أبي عمرة: أنه (يشهد) (١) أن لا إله إلا اللَّه وأن محمدا عبده ورسوله، وأوصى بنيه وأهله أن اتقوا اللَّه وأصلحوا ذات بينكم وأطيعوا اللَّه ورسوله إن كنتم مؤمنين، (وأوصيهم) (٢) بما أوصى به إبراهيم بنيه ⦗٢٤٢⦘ ويعقوب: ﴿يَابَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [البقرة: ١٣٢]، وزعم أنها كانت أول وصية أنس بن مالك (٣). [تم كتاب الوصايا بحمد اللَّه وعونه] (٤)
مولانا محمد اویس سرور

ہشام بن حسان فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کی پہلی وصیت یہ تھی : یہ وہ وصیت ہے جو محمد بن ابی عمرہ نے کی، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور میں اپنے بیٹوں اور اپنے گھر والوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور اس بات کی کہ آپس میں اچھے طریقے سے رہیں، اور اگر ایمان والے ہیں تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، اور میں ان کو اس بات کی وصیت کرتا ہوں جس کی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں اور حضرت یعقوب علیہ السلام کو وصیت کی تھی کہ ” اے میرے بیٹو ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے دین کو پسند کیا ہے، سو تمہیں موت اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو “ اور وہ فرماتے ہیں کہ یہی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی بھی پہلی وصیت تھی۔ تم کتاب الوصایا بحمد اللہ وعونہ (بحمد اللہ کتاب الوصایا اختتام کو پہنچی)

حواشی
(١) في [م]: (شهد).
(٢) في [م]: (وأوصاهم).
(٣) صحيح؛ ووصية ابن سيرين أخرجها الدارمي (٣١٨٢)، والبيهقي ٦/ ٢٨٧، وابن عساكر ٥٣/ ٢٤٣، وابن سعد ٧/ ٢٠٥، وابن القاسم في المدونة ١٥/ ١٢، وابن زبر في وصايا العلماء ص ٩٠.
(٤) سقط من: [أ، جـ، ح، ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 33089
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33089، ترقيم محمد عوامة 31678)