مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كان يصلي الظهر إذا زالت الشمس ولا يبرد بها باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی ، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
حدیث نمبر: 3308
٣٣٠٨ - حدثنا عباد بن العوام عن محمد بن عمرو عن سعيد بن الحارث عن جابر بن عبد اللَّه قال: كنت أصلي مع رسول اللَّه ﷺ الظهر فآخذ قبضة من الحصى ⦗٢٠٩⦘ فأجعلها في كفي، ثم أحولها إلى الكف الأخرى حتى تبرد، ثم أضعها (لجبيني) (١) حين (أسجد) (٢) من شدة الحر (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی ہے۔ میں شدید گرمی کی وجہ سے ایک مٹھی کنکریوں کی پکڑتا اور اسے پہلے ایک ہتھیلی میں اور پھر دوسری ہتھیلی میں رکھتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہوجائیں، پھر میں انہیں سجدہ کرتے وقت اپنی پیشانی کی جگہ رکھتا تھا۔
حواشی
(١) في [ب]: (لجيني)، وفي [أ]: (لجيبي) وكذا في [جـ]: وفي [ك]: (لجنبي).
(٢) في [أ، ب]: (أشد).