حدیث نمبر: 33051
٣٣٠٥١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن مسروق أنه حضر رجلًا (يوصي) (١) فأوصى بأشياء لا (تنبغي) (٢) فقال مسروق: إن اللَّه قد قسم بينكم ⦗٢٣٤⦘ فأحسن، وأنه من يرغب برأيه عن رأي اللَّه يضل، أوس لذوي قرابتك ممن لا (يرثك) (٣) ثم دع المال على من قسمه اللَّه عليه.
مولانا محمد اویس سرور

مسلم روایت کرتے ہیں کہ حضرت مسروق ایک آدمی کے پاس گئے جو وصیت کر رہا تھا، اس نے کچھ نامناسب وصیتیں کیں، حضرت نے فرمایا : ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان بہت اچھی تقسیم فرما دی ہے، اور بلاشبہ جو رائے اختیار کرنے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے روگردانی کرے گا وہ گمراہ ہوجائے گا، تم اپنے قرابت داروں میں سے ان لوگوں کے لئے وصیت کردو جو تمہارے مال میں رغبت رکھتے ہیں، پھر مال کو ان لوگوں کے درمیان رہنے دو جن پر اللہ تعالیٰ نے تقسیم کیا ہے۔

حواشی
(١) في [س]: (توفي).
(٢) في [أ، ب، ح، ط، هـ]: (ينبغي).
(٣) في النسخ: (يرغب)، والمثبت من: [هـ]، وتفسير الطبري ٢/ ١١٦، وسنن سعيد بن منصور ١/ (٣٦١) و (٣٦٢)، والمحلى ٩/ ٣١٥.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 33051
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33051، ترقيم محمد عوامة 31646)