مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الوصايا
في الرجل يوصي لأم ولده باب: اس آدمی کا بیان جو اپنی اُمِّ ولد باندی کے لئے وصیت کرے ، کیا یہ اس کے لئے جائز ہے؟
حدیث نمبر: 33032
٣٣٠٣٢ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: إذا أحرزت أم الولد شيئًا في (حياة) (١) سيدها فمات سيدها فهو لها وقد عتقت، فإن انتزع الميت شيئًا (قبل أن يموت) (٢) (أو) (٣) أوصى بشيء، (مما) (٤) كانت أحرزت في حياته، (يصنع) (٥) فيه ما (شاء) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حماد روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم نے فرمایا : جب ام ولد باندی کوئی چیز اپنے آقا کی زندگی میں محفوظ کرلے اور پھر اس کا آقا مرجائے تو وہ چیز اسی باندی کی ہوگی، اور باندی آزاد ہوجائے گی، اور اگر مرنے والا مرنے سے پہلے کچھ واپس لے لے یا جو چیز باندی کے پاس ہے اس کے بارے میں وصیت کر دے تو اس کو ایسا کرنے کا اختیار ہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (حياته).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) زيادة من [ب، م]: (أو).
(٤) في [أ، هـ]: (فما).
(٥) في [أ، هـ]: (تصنع).
(٦) في [أ، ط، هـ]: (شاءت).