مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الوصايا
من كان يوصي ويستحبها باب: ان حضرات کا بیان جو وصیت کیا کرتے تھے اور اس کو اچھا سمجھتے تھے
٣٢٩٨٢ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن حبيب قال: ذهبت أنا والحكم إلى سعيد بن جبير فسألته عن قوله تعالى: ﴿وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ﴾ إلى قوله: ﴿سَدِيدًا﴾ قال: هو الذي يحضره الموت فيقول له من (يحضره) (١): اتق اللَّه وأعطهم، صلهم، برهم -ولو كانوا هم الذين يأمرونه بالوصية لأحبوا أن (يبقوا) (٢) لأولادهم.سفیان سے روایت ہے کہ حضرت حبیب نے فرمایا کہ میں اور حکم حضرت سعید بن جبیر کے پاس گئے اور میں نے ان سے آیت { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ … سَدِیدًا } کی تفسیر پوچھی، انہوں نے فرمایا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مرنے والے کے پاس اس کی موت کے وقت حاضر ہوں اور اس کو نصیحت کریں کہ اللہ سے ڈرو ! اور وہ ان حاضرین کو صلہ رحمی اور احسان کے طور پر کچھ دے ، حالانکہ اگر اس آدمی کی جگہ خود یہ لوگ ہوں تو وہ یہ چاہیں کہ اپنی اولاد کے لئے خرچ کریں۔ پھر ہم حضرت مِقسَم کے پاس آئے، اور ان سے بھی اسی آیت کے متعلق سوال کیا انہوں نے پوچھا کہ حضرت سعید نے کیا فرمایا ؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ یہ فرمایا ہے، فرمایا یہ درست نہیں، بلکہ یہ آیت اس آدمی کے متعلق ہے جس کو موت کے وقت کہا جا رہا ہو کہ اللہ سے ڈر اور اپنا مال اپنے پاس روک رکھ ! کہ تیرے مال کا تیری اولاد سے زیادہ حق دار کوئی نہیں ہے، اور اگر وصیت کرنے والا اس کا رشتہ دار ہو تو وہ یہ چاہیں کہ وہ ان کے لئے وصیت کرے۔