مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الوصايا
في قبول الوصية من كان يوصي إلى الرجل فيقبل ذلك باب: وصیت کی ذمہ داری قبول کرنے کا بیان، اگر کوئی آدمی کسی کو وصیت کا ذمہ دار بنائے تو اس آدمی کو چاہیے کہ اس ذمہ داری کو قبول کر لے
حدیث نمبر: 32958
٣٢٩٥٨ - (حدثنا أبو أسامة) (١) عن إسماعيل عن قيس قال: كان أبو (عبيد) (٢) (عبر) (٣) (الفرات) (٤) فأوصى إلى عمر بن الخطاب (٥).مولانا محمد اویس سرور
قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبید فرات کے پار چلے گئے اور انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اپنا وصی بنا چھوڑا تھا۔
حواشی
(١) في [م]: (حدثنا أبو بكر) بدل (حدثنا أبو أسامة).
(٢) في [أ، ب، جـ، ح، ط، هـ]: (عبيدة).
(٣) في [أ، ب، ط، هـ]: (عند).
(٤) في [جـ]: (القراه)، وفي [م]: (القرات)، وفي [أ، هـ]: (القراء).