مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الوصايا
الرجل يوصي بالوصية ثم يوصي بأخرى بعدها باب: اس آدمی کا بیان جو پہلے ایک وصیت کرے پھر دوسری وصیت کر ڈالے
٣٢٧٦٩ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن هشام عن الحسن أن رجلًا أوصى ⦗١٧٦⦘ فدعا ناسًا فقال: أشهدكم أن غلامي فلانًا (إن) (١) حدث بي (حادث) (٢) فهو حر، [فخرجوا من عنده فقيل له: اعتقت فلانًا وتركت فلانًا وكان أحسن بلاء، (فقال) (٣): ردوا علي البينة، (أشهدكم أني قد) (٤) رجعت في عتق فلان، وأن فلانًا -لعبده الآخر- إن حدث بي حدث فهو حر] (٥)، فمات الرجل فقال الأول: أنا حر، وقال الآخر: أنا حر، فاختصما إلى عبد الملك بن مروان، فرد عتق الأول وأجاز عتق الآخر.ہشام حسن سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے وصیت کی ، اور لوگوں کو بلا کر کہا : اگر مجھے موت آگئی تو میں آپ لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرا فلاں غلام آزاد ہے، اس سے کہا گیا کہ تم نے فلاں غلام کو تو آزاد کردیا لیکن دوسرا فلاں غلام جو اس سے زیادہ خدمت کرنے والا تھا اس کو تم نے چھوڑ دیا، اس پر اس نے کہا لوگوں کو دوبارہ بلاؤ ! اور ان سے کہا میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اس غلام کی آزادی سے رجوع کرلیا اور دوسرا فلاں غلام آزاد ہے اگر میں مر جاؤں، چناچہ وہ آدمی مرگیا تو پہلے غلام نے دعویٰ کیا کہ میں آزاد ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں آزاد ہوں، چناچہ وہ عبد الملک بن مروان کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے گئے تو انہوں نے پہلے غلام کی آزادی کو ردّ کر کے دوسرے غلام کی آزادی کا اعلان فرما دیا۔