مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يؤمر الرجل أن يدعو فلا يضره لسعة (عقرب) باب: آدمی کو یوں دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے پس اس طرح بچھو کا ڈسنا اس کو کچھ نقصان نہیں پہنچائے گا
٣١٧٨٣ - حدثنا جرير بن عبد الحميد (عن عبد العزيز بن) (١) رفيع عن أبي صالح قال: لدغ رجل من الأنصار فلما أصبح أتى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه ما ⦗٣٤٧⦘ زلت البارحة ساهرًا من لدغة عقرب (فقال) (٢) النبي ﷺ: "أما إنك لو قلت حين أمسيت: أعوذ بكلمات اللَّه التامة من شر ما خلق، ما ضرك عقرب حتى تصبح" (٣).حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی کو بچھو نے ڈنک مار دیا۔ جب صبح ہوئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! میں ساری رات بچھو کے ڈسنے کی وجہ سے بیدار رہا ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تم شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لیتے ، میں پناہ لیتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ اس کی مخلوق کے شر سے، تو صبح ہونے تک بچھو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔ ابو صالح فرماتے ہیں ! پس میں نے یہ کلمات اپنے بیٹے اور بیٹی کو سکھا دیے، پھر ان دونوں کو بچھو نے ڈنک مارا۔ اور ان کو کچھ تکلیف بھی نہیں پہنچی۔