حدیث نمبر: 31735
٣١٧٣٥ - حدثنا حسين بن علي قال: سألت ابن جريج فذكر عن عطاء أن رجلا أهلَّ هلالا بفلاة من الأرض قال: فسمع قائلًا يقول: اللهم أهله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة والإسلام، والهدى والغفرة والتوفيق لما ترضى، والحفظ مما تسخط، ربي وربك اللَّه، قال: فلم (يتمهن) (١) حتى حفظتهن ولم أر أحدا.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن جریج سے سوال کیا (نئے چاند کے متعلق) تو انہوں نے حضرت عطاء کے حوالہ سے نقل کیا : کہ بیشک ایک آدمی نے بنجر زمین میں نیا چاند دیکھا۔ اس نے بیان کیا کہ میں نے کسی کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا : اے اللہ ! تو اس چاند کو ہم پر امن اور ایمان کے ساتھ، اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ، اور ہدایت اور مغفرت کے ساتھ، اور ہر اس عمل کی توفیق کے ساتھ نکال جو تجھے پسند ہو، اور ہر اس عمل سے حفاظت کے ساتھ نکال جس سے تو ناراض ہوتا ہو۔ اے چاند تیرا اور میرا دونوں کا پروردگار اللہ ہے۔ وہ آدمی کہتا ہے : وہ مسلسل یہ کلمات پڑھتا رہا یہاں تک کہ میں نے ان کو یاد کرلیا : اور میں نے کسی کو بھی وہاں نہیں دیکھا۔

حواشی
(١) في [ك]: (يزل يلقنهن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31735
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31735، ترقيم محمد عوامة 30370)