حدیث نمبر: 31599
٣١٥٩٩ - حدثنا عبد اللَّه بن (نمير) (١) عن زكريا بن أبي زائدة عن مصعب عن يحيى بن جعدة قال: كان خالد بن الوليد يفزع من الليل حتى يخرج ومعه سيفه ⦗٢٩٠⦘ فخشي عليه أن يصيب أحدا، فشكا ذلك إلى (رسول اللَّه) (٢) ﷺ فقال: "إن جبريل قال لي: إن عفريتا من الجن يكيدك (فقل) (٣): أعوذ بكلمات اللَّه التامة التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما ينزل من السماء وما يعرج فيها، ومن شر ما ذرأ في الأرض وما يخرج منها، (و (من) (٤) شر) (٥) فتن الليل والنهار، و (٦) كل طارق إلا طارقًا يطرق بخير يا رحمن"، فقالهن خالد فذهب ذلك عنه (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یحییٰ بن جعدہ فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رات سے ڈرتے تھے، یہاں تک کہ وہ نکلے اس حال میں کہ ان کے پاس تلوار تھی۔ پس ان پر خوف طاری ہوگیا کہ وہ کسی کو تکلیف پہنچا دیں گے پس انہوں نے اس بات کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نے مجھ سے فرمایا ہے : کہ جنوں کی ایک جماعت تیرے ساتھ مکر و فریب کرتی ہے، پس تو یہ کلمات پڑھ لے : میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ کہ جن سے کوئی نیکو کار اور بدکار تجاوز نہیں کرسکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور جو آسمان میں بلند ہوتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جو زمین میں پیدا ہوتی ہے اور جو زمین سے نکلتی ہے، اور دن اور رات کے فتنوں کے شر سے، اور ہر رات کو آنے والے سے مگر جو خیر لائے، اے رحم کرنے والے، پس حضرت خالد نے ان کلمات کو پڑھا، تو ان کی یہ حالت ختم ہوگئی۔

حواشی
(١) في [جـ، ك]: (عمر).
(٢) في [ك]: (النبي).
(٣) في [ك]: (فقال).
(٤) سقط من: [جـ، ك].
(٥) سقط من: [ط].
(٦) في [هـ]: زيادة (من شر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31599
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ يحيى بن جعدة ليس صحابيًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31599، ترقيم محمد عوامة 30236)