حدیث نمبر: 31542
٣١٥٤٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الجريري عن أبي (الورد) (١) عن ابن (أعبد) (٢) أو ابن معبد قال: قال علي: تدري ما حق الطعام؟ قال: قلت: وما حقه؟ قال: تقول: بسم اللَّه، اللهم بارك لنا فيما رزقتنا، (٣) قال: تدري ما شكره؟ قلت: وما شكره؟ قال: تقول: الحمد للَّه الذي أطعمنا وسقانا (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن اعبد یا ابن معبد فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ کھانے کا حق کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا ! کہ کھانے کا حق کیا ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تو یہ کلمات کہے : اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں۔ اے اللہ ! جو رزق تو نے ہمیں عطا فرمایا تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما۔ پھر فرمایا : تم جانتے ہو کہ کھانے کا شکر کیا ہے ؟ میں نے پوچھا : کھانے کا شکر کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : کہ تم یہ کلمات کہو : سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا۔

حواشی
(١) في [ط]: (الدرداء).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (عبد).
(٣) كذا في: [أ، ب، جـ، ط، ك]، في [هـ]: زيادة (ثم).
(٤) مجهول؛ لجهالة ابن معبد، أخرجه عبد اللَّه في زوائد المسند (١٣١٣)، والطبراني في الدعاء (٢٣٥)، والمزني ٢٠/ ٣٢٢، والبيهقي في الشعب (٦٠٤٠)، والطبراني في الدعاء (٢٣٥)، وسبق ٨/ ١٢٢ برقم [٢٦١٠٣] و [٢٦١٠٤].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31542
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31542، ترقيم محمد عوامة 30180)