حدیث نمبر: 31531
٣١٥٣١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق عن عائشة قالت: استأذن على (النبي) (١) صلى اللَّه (عليه وسلم) (٢) رجلان فأغلظ لهما وسبهما (قالت) (٣): قلت: يا رسول اللَّه من أصاب منك خيرًا مما أصاب هذان منك خيرًا قال: "أو ما علمت ما عاهدت عليه ربي" قالت له: وما عاهدت عليه ربك؟ قال: "قلت: اللهم أيما مؤمن سببته أو لعنته أو جلدته فاجعلها له مغفرة وعافية وكذا وكذا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دو آدمیوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر غصہ کا اظہار فرمایا اور ان کو بُرا بھلا کہا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہر شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھلائی پائی۔ پس ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھلائی نہیں پائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتی ہو کہ میں نے اپنے رب سے کیا معاہدہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : کہ آپ نے اپنے رب سے کیا معاہدہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے یوں کہا ہے کہ : اے اللہ ! کوئی بھی مومن بندہ جس کو میں نے برا بھلا کہا ہو یا جس پر میں نے لعنت کی ہو یا جس کو میں نے کوڑے لگائے ہوں۔ پس آپ اس کو اتنی اور اتنی مغفرت اور عافیت بخش دیجیے۔

حواشی
(١) في [ط، هـ]: (رسول اللَّه).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [أ، ب، ط]: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31531
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٦٠٠)، وأحمد (٢٤١٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31531، ترقيم محمد عوامة 30169)