حدیث نمبر: 3151
٣١٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن (الجريري) (١) عن الريان (الراسبي) (٢) عن أشياخ بني راسب: أن طلحة والزبير صليا في بعض مساجدهم ولم يكن الإمام، ثم فقلنا لهما: ليتقدم أحدكما فإنكما من صحابة رسول اللَّه ﷺ، فأبيا وقالا: (أين الإمام؟، أين الإمام؟) (٣)، (فجاء) (٤) الإمام (فصلى) (٥) بهم، قالا: كل صلاتكم كانت (مقاربة) (٦) إلا شيئًا (رأيتهم) (٧) (يصنعونه) (٨) ليس بحسن في صلاتكم، فقلنا: ما هو؟ قالا: إذا سلم الإمام فلا يقومن رجل من خلفه حتى ينفتل الإمام بوجهه أو ينهض من مكانه (٩).
مولانا محمد اویس سرور

بنو راسب کے کچھ بزرگ فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے ہماری ایک مسجد میں نماز ادا کی، وہاں کوئی امام نہ تھا تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ میں ایک آگے بڑھ کے نماز پڑھائے کیونکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں۔ ان دونوں حضرات نے امامت سے انکار کیا اور فرمایا کہ امام کہاں ہے ؟ امام کہاں ہے ؟ اتنے میں امام آگیا اور اس نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ تمہاری نماز کا ہر عمل ٹھیک ہے لیکن ایک چیز ایسی ہے جو اچھی نہیں۔ ہم نے پوچھا کہ وہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ جب امام سلام پھیر لے تو مقتدی اس وقت تک کھڑا نہ ہو جب تک امام اپنا رخ نہ بدل لے یا اپنی جگہ سے اٹھ نہ جائے۔

حواشی
(١) في [أ]: (الحوري)، وفي [جـ]: (الحميدي).
(٢) في [أ]: (الراسني).
(٣) في [هـ]: ذكر (أين الإمام).
(٤) سقط من: [جـ]: (فجاء).
(٥) في [جـ، ك]: (وصلى).
(٦) في [أ]: (مقارنة).
(٧) في [أ، ب]: (رأيته)، وفي [هـ]: (رأيناه).
(٨) في [هـ]: (تصنعونه).
(٩) مجهول.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3151
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3151، ترقيم محمد عوامة 3138)