مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما دعا (به) النبي ﷺ لأمته فأعطي بعضه باب: جو دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے مانگی جس کا کچھ حصہ عطا بھی کر دیا گیا
٣١٤٨٤ - حدثنا بن نمير حدثنا عثمان بن حكيم أخبرنا عامر بن سعد عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ أقبل ذات يوم من العالية حتى إذا مر بمسجد بني معاوية دخل فركع فيه ركعتين وصلينا معه ودعا ربه طويلًا ثم انصرف إلينا فقال: "سألت ربي ثلاثًا فأعطاني اثنتين ورد علي واحدة، سألت ربي أن لا يهلك أمتي بالسنة فأعطانيها، وسألته أن لا يهلك أمتي بالغرق فأعطانيها، وسألته أن لا يجعل بأسهم بينهم فمنعنيها" (١).حضرت سعد فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلند جگہ سے ہماری طرف تشریف لائے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر مسجد بنی معاویہ کے پاس سے ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور اس میں دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب سے لمبی دعا مانگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف پلٹے۔ ور فرمایا۔ میں نے اپنے رب سے تین دعائیں مانگیں۔ پس رب نے مجھے دو چیزیں عطافرما دیں اور ایک کو منع فرما دیا۔ میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ میری امت کو فاقہ کے ذریعہ سے مت ہلاک فرمائیں، تو اللہ نے اس دعا کو شرف قبولیت عطا فرمائی، اور میں نے یہ بھی سوال کیا کہ میری امت کو ڈوبنے کے ذریعہ ہلاک مت فرمانا۔ پس اللہ نے اس دعا کو بھی شرف قبولیت عطا فرمائی، اور میں نے یہ بھی سوال کیا کہ امت کے درمیان کوئی جنگ نہ ہو تو اللہ نے منع فرما دیا۔