مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يدعى به في الاستسقاء باب: حالت استسقاء میں مانگی جانے والی دعاکا بیان
حدیث نمبر: 31461
٣١٤٦١ - حدثنا وكيع عن مسعر عن زيد العمي عن أبي الصديق الناجي أن سليمان بن داود خرج بالناس يستسقي فمر على نملة مستلقية على قفاها رافعة قوائمها إلى السماء، وهي تقول: اللهم إنا خلق من خلقك، ليس (بنا) (١) غنى عن رزقك فإما أن تسقينا، وإما أن تهلكنا، فقال سليمان للناس: ارجعوا فقد سقيتم بدعوة غيركم.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الصدیق الناجی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داؤد لوگوں کو پانی طلبی کی دعا کرنے کے لیے لے کر نکلے، پس ان کا گزر ایک چیونٹی پر ہوا جو الٹی ہو کر چت لیٹی ہوئی تھی، اور اپنی ٹانگیں آسمان کی طرف کی ہوئی تھیں اور یہ دعا مانگ رہی تھی : اے اللہ ! ہم بھی آپ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہیں، ہم تیرے رزق سے بالکل بےنیاز نہیں ہیں، یا تو آپ ہمیں سیراب فرما دیں یا آپ ہمیں ہلاک کردیں۔ تو حضرت سلیمان نے لوگوں سے فرمایا : تم لوگ واپس لوٹ جاؤ ! تمہیں دوسروں کی دعا سے سیراب کردیا جائے گا۔
حواشی
(١) في [ط، هـ]: (لنا).