حدیث نمبر: 31459
٣١٤٥٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مطرف عن الشعبي أن عمر خرج يستسقي فصعد المنبر فقال: ﴿اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (١٠) يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (١١) وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا﴾ [نوح: ١٠ - ١٢]، واستغفروا ربكم إنه وإن غفارا ثم نزل، فقيل له: يا أمير المؤمنين لو استسقيت (فقال) (١): لقد طلبت (بمجاديح) (٢) السماء التي يستنزل بها القطر (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر پانی کی طلبی کی دعا کے لیے نکلے اور منبر پر چڑھ کر یہ آیات پڑھیں : معافی مانگو اپنے رب سے ، یقینا وہ بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہے، وہ برسائے گا تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش اور نوازے گا تمہیں مال و اولاد سے اور پیدا کرے گا تمہارے لیے باغ اور جاری کر دے گا تمہارے لیے نہریں، اور معافی مانگو اپنے رب سے، پھر آپ منبر سے نیچے اتر آئے۔ پس آپ سے کہا گیا : اے امیر المؤمنین ! اگر آپ بارش بھی مانگتے تو اچھا ہوتا، تو آپ نے فرمایا : البتہ تحقیق میں نے آسمان کے نچھتر کے ذریعہ پانی طلب کیا ہے جس کے ذریعہ پانی کے قطرے اتارے جاتے ہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [أ، ب، ط]: (بمخارج).
(٣) منقطع؛ الشعبي لم يسمع من عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31459
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31459، ترقيم محمد عوامة 30099)