حدیث نمبر: 31408
٣١٤٠٨ - حدثنا يعلي بن عبيد عن مسعر عن عطية عن أبي سعيد قال: إذا قال: العبد الحمد للَّه كثيرا قال الملك: كيف أكتب؟ قال: (يقول) (١): أكتب له رحمتي كثيرًا، وإذا قال العبد: اللَّه أكبر كبيرا، قال الملك: كيف أكتب؟ قال: (يقول) (٢): أكتب (له) (٣) رحمتي كثيرًا، وإذا قال: سبحان اللَّه كثيرًا، قال الملك: كيف أكتب؟ قال: (فيقول) (٤): أكتب رحمتي كثيرًا (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید نے ارشاد فرمایا : جب بندہ کہتا ہے۔ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، تو فرشتہ عرض کرتا ہے، میں کیا لکھوں ؟ راوی کہتے ہیں : اللہ فرماتے ہیں ۔ تم اس کے لیے میری ڈھیر ساری رحمت لکھ دو ۔ جب بندہ کہتا ہے اللہ اکبر کبیرا تو فرشتہ کہتا ہے کہ میں کاس لکھوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کے لیے میری بہت ساری رحمت لکھ دو اور جب بندہ کہتا ہے کہ : اللہ تمام عیوب سے پاک ہے ، تو فرشتہ کہتا ہے میں کیا لکھوں ؟ پس ارشاد ہوتا ہے، تم اس کے لیے میری ڈھیر ساری رحمت لکھ دو ۔
حواشی
(١) في [م]: (تقول)، وسقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) في [م]: (تقول)، وسقط من: [أ، ط، هـ].
(٣) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٤) في [أ، هـ]: (قال).