حدیث نمبر: 31407
٣١٤٠٧ - حدثنا أسود بن عامر حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن سعيد بن المسيب قال: كنا عند سعد بن مالك فسكت سكتة فقال: لقد أصبت ⦗٢١٦⦘ (بسكتتي) (١) هذه مثل ما سقى النيل والفرات، قال: قلنا: وما أصبت؟ قال: سبحان اللَّه والحمد للَّه ولا إله إلا اللَّه واللَّه أكبر (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ ہم حضرت سعد بن مالک کے پاس تھے پس ان پر سکتہ طاری ہوگیا۔ پھر وہ فرمانے لگے : البتہ تحقیق مجھے جو یہ سکتہ لاحق ہوا جسے دریائے نیل و فرات نے سراب کردیا ہو۔ حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں۔ ہم نے پوچھا : آپ کو کا چیز لاحق ہوئی تھی۔ انہوں نے فرمایا اللہ پاک ہے، اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور اللہ سب سے بڑا ہے۔

حواشی
(١) في [جـ، ك]: (لسكتتي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31407
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد في الزهد ص ١٨٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31407، ترقيم محمد عوامة 30047)