حدیث نمبر: 31398
٣١٣٩٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن موسى بن (عبيدة) (١) عن زيد بن أسلم عن جابر بن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ألا أعلمكم ما (علم) (٢) نوح ابنه؟ " قالوا: بلى، قال: "آمرك (أن) (٣) تقول: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، فإن السماوات لو كانت في كفة لرجحت بها، ولو كانت حلقة قصمتها، وآمرك (بسبحان) (٤) اللَّه وتحمده، فإنه صلاة الخلق وتسبيح الخلق (وبها) (٥) يرزق الخلق" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو وہ کلمات نہ سکھاؤں جو حضرت نوح نے اپنے بیٹے کو سکھائے تھے ؟ تو صحابہ نے فرمایا کیوں نہیں ؟ ضرور ، حضرت نوح نے فرمایا تھا، میں تجھے حکم دیتا ہوں ان کلمات کے پڑھنے کا : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پس بلاشبہ اگر تمام آسمانوں کو ایک ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے تو کلمہ والا پلڑا جھک جائے۔ اور اگر کسی دائرہ میں ہو تو یہ کلمات ان کو توڑ دیں اور میں تجھے حکم دیتا ہوں اللہ کی پاکی اور اس کی تعریف بیان کرنے کا ۔ پس بیشک یہ مخلوق کی دعا ہے اور مخلوق کی تسبیح ہے۔ اور اسی کے ذریعے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (عبيد).
(٢) في [ك]: (يعلم).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [هـ]: (تسبح)، وفي [أ، ب، ط]: (تسبحن).
(٥) في [جـ، ك]: (بها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31398
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ موسى بن عبيدة ضعيف، أخرجه عبد بن حميد (١١٥١)، وابن حبان في المجروحين ٢/ ٢٣٥، وابن جرير في التفسير ١٥/ ٩٢، وابن عساكر ٦٢/ ٢٨٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31398، ترقيم محمد عوامة 30038)