حدیث نمبر: 31376
٣١٣٧٦ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن حبيب عن عبيد بن عمير قال: إذا أراد أحدكم الحاجة فليقل: اللهم (إني) (١) أستخيرك بعلمك وأستقدرك (بقدرتك) (٢) وأسألك من فضلك، فإنك تقدر ولا (أقدر) (٣) وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب، اللهم إن كان هذا (الأمر) (٤) الذي أردته خيرا لي في ديني ومعيشتي وخير عاقبة فيسره لي وبارك لي فيه، وإن كان غير ذلك خيرا فقدر لي الخير حيث كان ورضني به.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی ایک کو کوئی ضرورت درپیش ہو تو اس کو چاہیے کہ یوں دعا کرے اے اللہ ! میں تیرے علم کے ذریعہ تجھ سے خیر مانگتا ہوں۔ اور تیری قدرت کے ذریعہ تجھ سے قدرت طلب کرتا ہوں۔ اور میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں ۔ پس بلاشبہ تجھے قدرت ہے اور مجھے قدرت نہیں ہے۔ اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا ۔ اور تو غیب کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ ! اگر یہ کام جس کے کرنے کا میں نے ارادہ کیا ہے میرے دین و دنیا اور آخرت میں بہتر ہے تو اس کو میرے لیے آسان فرما اور میرے لیے اس میں برکت فرما۔ اور اگر اس کے علاوہ کسی کام میں بھلائی ہے تو اس بھلائی کو میرے لیے مقدر فرما جہاں کہیں بھی ہو اور مجھے اس سے راضی فرما دے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٢) في [ك]: (بمدرك).
(٣) سقط من: [ك].
(٤) سقط من: [هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31376
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31376، ترقيم محمد عوامة 30017)