حدیث نمبر: 31374
٣١٣٧٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: قال عبد اللَّه: إذا أراد أحدكم (الحاجة) (١) فليقل: اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك، فإنك تقدر ولا (أقدر) (٢)، وتعلم ولا (أعلم) (٣) وأنت علام الغيوب، اللهم إن كان هذا الأمر الذي أردته خيرا لي في ديني ومعيشتي وخير عاقبتي فيسره لي وبارك لي فيه، وإن كان غير ذلك خيرًا فقدر لي الخير حيثما كان، ثم رضني بما قضيت (٤)،
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی ایک کسی ضرورت کے پوری کرنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ یہ کلمات کہہ لیا کرے : اے اللہ ! میں تیرے علم کے ذریعہ تجھ سے خیر مانگتا ہوں۔ اور میں تیری قدرت کے ذریعہ تجھ سے قدرت مانگتا ہوں اور میں تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔ بلا شبہ تجھے ہی قدرت حاصل ہے اور مجھے قدرت نہیں ہے۔ اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو غیب کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ ! اگر یہ کام جس کے کرنے کا میں نے ارادہ کیا ہے میرے دین، دنیا و آخرت میں میرے لیے بہتر ہے تو اس کام کو میرے لیے آسان فرما۔ اور میرے لیے اس میں برکت فرما۔ اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور کام بہتر ہے پس وہ خیر میرے مقدر فرما جہاں کہیں بھی ہو۔ پھر مجھے راضی فرما دے اس فیصلہ سے جو تو نے کیا ہے۔

حواشی
(١) في [ط]: (الحجة).
(٢) في [ك]: (تقدر).
(٣) في [ك]: (أعلمك).
(٤) منقطع؛ إبراهيم لم يسمع من ابن مسعود، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٢١٠)، والطبراني في الأوسط (٧٣٢٢)، وروي مرفوعًا أخرجه البزار (١٥٢٨)، وأبو حنيفة كما في المسند ١/ ٨١، والشاشي (٣٥٩)، والطبراني (١٠٠١٢)، والخطيب ٣/ ٤٥، والخرائطي كما في المنتقي (٤٦٩).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31374
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31374، ترقيم محمد عوامة 30015)