مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما ذكر فيمن سأل النبي ﷺ أن يعلمه ما يدعو به فعلمه باب: اس شخص کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے جس نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ آپ مجھے وہ دعا سکھا دیں جسے میں پڑھ سکوں، تو انہوں نے اسے سکھا دیا
٣١٣٢٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن الجريري (١) عن أبي الورد بن ثمامة عن اللجلاج عن معاذ قال: مر رسول اللَّه ﷺ على رجل وهو يقول: اللهم إني أسألك الصبر فقال رسول اللَّه ﷺ: "سألت اللَّه البلاء (فاسأله) (٢) المعافاة"، ومر على رجل ⦗١٨٧⦘ وهو يقول: اللهم إني أسألك تمام النعمة، فقال: "يا ابن آدم وهل تدري ما تمام النعمة؟ " قال: يا رسول اللَّه دعوة دعوت بها رجاء الخير، قال: "فإن من تمام النعمة دخول الجنة، و (العوز) (٣) من النار"، ومر على رجل وهو يقول: يا ذا الجلال والإكرام، (فقال: (قد استجيب لك فاسأل) (٤) " (٥).حضرت معاذ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ایک آدمی پر ہوا جو یہ دعا کر رہا تھا : اے اللہ ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے اللہ سے مصیبت مانگی ہے پس تو اس سے صحت و عافیت کا سوال کر۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک اور آدمی پر بھی گزر ہوا جو یہ دعا کر رہا تھا : اے اللہ ! میں آپ سے مکمل نعمت کا سوال کرتا ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے آدم کے بیٹے ! کیا تو جانتا ہے کہ مکمل نعمت کیا ہے ؟ اس شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس دعا سے میں نے خیر کے ارادہ کی امید کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس یقینا مکمل نعمت جنت مں ت داخل ہونا اور جہنم سے بچنا ہے۔ اور ایک اور آدمی پر گزر ہوا تو وہ یہ دعا کر رہا تھا : اے بزرگی اور اکرام و انعام والے ! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیری دعا قبول کی جائے گی پس تو سوال کر۔