مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يستحب أن (يدعو) به إذا أصبح؟ باب: وہ دعا جو دعا صبح کے وقت مانگنا مستحب ہے
٣١٢٥٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن عمرو بن مرة قال: قلت لسعيد بن المسيب ما تقولون إذا أصبحتم وأمسيتم مما تدعون به، قال: نقول: أعوذ (بوجه اللَّه) (١) الكريم واسم اللَّه العظيم وكلمة اللَّه التامة من شر السامة واللامة ومن شر ما (جهلت) (٢) أي رب، وشر ما أنت آخذ بناصيته ومن شر هذا اليوم وشر ما بعده، وشر (الدنيا) (٣) والآخرة.حضرت عمرو بن مُرّہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے پوچھا : کہ آپ لوگ صبح و شام کے وقت کون سی دعا مانگتے ہو ؟ وہ فرمانے لگے : ہم یوں دعا کرتے ہیں : میں پناہ پکڑتا ہوں اللہ کی ذات کے ساتھ جو بہت سخی ہے، اور اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت عظمت والا ہے، اور اللہ کے پورے پورے کلمہ کے ساتھ، موت اور نظر بد کے شر سے، اے میرے مالک ! جس چیز سے میں ناواقف ہوں اس کے شر سے، اور جس کی پیشانی تو نے پکڑی ہوئی ہے اس کے شر سے، اور اس دن کے شر سے، اور جو کچھ اس دن کے بعد ہے اس کے شر سے، اور دنیا و آخرت کے شر سے۔