مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يستحب أن (يدعو) به إذا أصبح؟ باب: وہ دعا جو دعا صبح کے وقت مانگنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 31255
٣١٢٥٥ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن عبد الملك عن عبد اللَّه بن عبيد بن عمير عن عبيد بن عمير أنه كان يقول إذا أصبح وأمسى: اللهم إني أسألك عند (حضرة) (١) (صلاتك) (٢) وقيام دعاتك، أن تغفر لي وترحمني.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید فرماتے ہیں کہ حضرت عبید بن عمیر صبح و شام کے وقت یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں نمازوں کے حاضر ہونے کے وقت اور آپ کے پکارنے والوں کے قیام کے وقت کہ آپ میری مغفرت فرما دیں اور مجھ پر رحم فرما دیجیے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (حضرة).
(٢) في [ك]: (صلواتك).