حدیث نمبر: 31247
٣١٢٤٧ - حدثنا الفضل بن دكين حدثنا عبادة بن مسلم الفزاري حدثنا جبير بن أبي (سليمان) (١) بن جبير بن مطعم زعم أنه كان جالسًا مع عبد اللَّه بن عمر فقال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول في دعائه (حين يمسي وحين يصبح) (٢) لم يدعه حتى فارق الدنيا أو حتى مات: "اللهم إني اسألك العافية في الدنيا والآخرة، اللهم إني أسالك العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي، (اللهم) (٣) استر (عوراتي) (٤) وآمن روعاتي، اللهم أحفظني من بين يدي ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي، وأعوذ ⦗١٥٤⦘ بعظمتك أن أغتال من تحتي" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جبیر بن أبی سلیمان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا تو آپ نے فرمایا : میں سنتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح و شام یہ دعا فرمایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دعا کو نہیں چھوڑا یہاں تک کہ دنیا چھوڑ گئے یا یوں فرمایا : یہاں تک کہ وصال فرما گئے : اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل اور اپنے مال میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ ! میری پردہ داری فرما، اور میری گھبراہٹ کو بےخوفی و اطمینان سے بدل، اے اللہ ! میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے ، میری دائیں طرف سے، اور میری بائیں طرف سے اور میرے اوپر سے میری حفاظت کر، اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ اچانک اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں۔ حضرت جبیر فرماتے ہیں : اس کا مطلب ہے دھنسنا، اور میں نہیں جانتا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد ہے یا جُبیر کی۔

حواشی
(١) في [جـ]: (سلمان).
(٢) في [أ، ط]: (حين يصبح وحين يمسي).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) في [ز]: (عورتي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31247
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٤٧٨٥)، وأبو داود (٥٠٧٤)، وابن ماجه (٣٨٧١)، والنسائي ٨/ ٢٨٢، وابن حبان (٩٦١)، والحاكم ١/ ٥١٧، والبخاري في الأدب المفرد (١٢٠٠)، والطبراني (١٣٢٩٦)، وعبد بن حميد (٨٣٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31247، ترقيم محمد عوامة 29889)