حدیث نمبر: 31236
٣١٢٣٦ - حدثنا ابن نمير (حدثنا) (١) الأعمش عن مالك بن الحارث قال: كان ربيع يأتي علقمة (يوم الجمعة) (٢) قال: فأتاه ولم يكن ثمة، فجاء رجل فقال: ألا تعجبون من الناس، وكثرة دعائهم، وقلة إجابتهم؟ فقال ربيع: تدرون لم ذاك؟ إن اللَّه لا يقبل إلا (النخيلة) (٣) من الدعاء.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مالک بن حارث فرماتے ہیں : حضرت ربیع جمعہ کے دن حضرت علقمہ کے پاس تشریف لایا کرتے تھے حضرت مالک فرماتے ہیں : پس و ہ ایک مرتبہ تشریف لائے تو وہاں کوئی موجود نہیں تھا، پھر ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : کیا تمہیں تعجب نہیں ہوتا لوگوں کی کثرت سے دعا کرنے پر اور ان کی دعاؤں کے کم قبول ہونے پر ؟ اس پر حضرت ربیع نے فرمایا : کیا تم لوگوں کو اس کی وجہ معلوم ہے ؟ سنو ! یقینا اللہ تعالیٰ صرف اخلاص سے مانگی گئی دعا کو قبول فرماتے ہیں حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں : جب میں وہاں آیا تو حضرت علقمہ نے حضرت ربیع کے اس قول کے بارے میں مجھے بتلایا، تو میں حضرت ربیع سے کہا : کیا آپ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول نہیں سنا ؟ انہوں نے پوچھا : ان کا کیا قول ہے ؟ حضرت عبد الرحمن بن یزید نے فرمایا : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے : قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ تعالیٰ نہیں سنتے کسی گوییّ کی پکار کو، اور نہ ہی ریاکاری کرنے والے کی پکار کو، اور نہ ہی کھیل کود کرنے والے کی پکار کو، اور نہ ہی بلانے والے کی پکار کو مگر اس کی دعا سنتے ہیں جو دل کی گہرائیوں سے دعا مانگتا ہے۔

حواشی
(١) في [ك]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) أي: الخالصة، وفي [أ، ب، ط]: (التخلية)، وفي [هـ]: (الناخلة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31236
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31236، ترقيم محمد عوامة 29880)