حدیث نمبر: 31232
٣١٢٣٢ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن أبي عمر (الصيني) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں : میں نے ایک دن کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مالدار لوگ اجر وثواب میں ہم سے بڑھ گئے ہیں۔ وہ لوگ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں، اور وہ لوگ روزے رکھتے ہیں جیسا کہ ہم روزے رکھتے ہیں، اور وہ لوگ حج بھی کرتے ہیں جیسا کہ ہم حج کرتے ہیں، اور وہ صدقہ بھی دیتے ہیں، اور ہم اتنا مال ہی نہیں پاتے جس کا صدقہ کریں ؟ حضرت ابو الدرداء کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کو اگر تم کرو گے تو سبقت کرنے والوں کے اجر کو پہنچ جاؤ گے اور تمہارے بعد تمہارے اجر تک صرف وہی پہنچ سکے گا جو تمہاری طرح یہ عمل کرے گا : ” تم لو گ ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، اور تینتیس مرتبہ الحمد اللہ، اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہا کرو۔ “

حواشی
(١) هذه رواية وكيع كما في الكنى للبخاري ص ٥٥، وهكذا سيأتي ١٣/ ٤٥٣ برقم [٣٧٧٧١]، وورد في النسخ [أ، ب، جـ، ط]: (الضبي)، وهذه رواية آدم عن شعبة وقد حكم الأئمة بأنها وهم.
(٢) مجهول منقطع؛ لجهالة أبي عمر الصيني ولم يثبت سماعه من أبي الدرداء، أخرجه أحمد (٢٧٥١٥)، والنسائي في الكبرى (٩٩٧٨)، والطبراني في الدعاء (٧٠٨)، وبنحوه الطيالسي (٩٨٢)، والطبراني (٧٠٩)، والمروزي في زياداته على زهد ابن المبارك (١١٥٩)، والبغوي في الجعديات (١٥٦)، والبخاري في الكنى ص ٥٥، والمزي ٢٤/ ١١٠، وابن السني (١٤٩)، وعبد الرزاق (٣١٨٧).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31232
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31232، ترقيم محمد عوامة 29877)