حدیث نمبر: 31225
٣١٢٢٥ - حدثنا ابن نمير حدثنا الأعمش عن عمرو بن مرة قال: حدثني شيخ عن صلة بن زفر قال: سمعت ابن عمر يقول في دبر الصلاة: ⦗١٤٤⦘ اللهم أنت السلام ومنك السلام، تباركت (يا) (١) (ذا) (٢) الجلال والإكرام (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت صلۃ بن زفر فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز کے بعد یہ کلمات کہتے سنا : ” اے اللہ ! تو سلامتی والا ہے، اور تجھ سے ہی سلامتی ہے، تو برکت والا ہے، اے صاحب عظمت اور بزرگی والے۔ “ پھر میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی تو انہیں بھی یہی کلمات فرماتے ہوئے سنا، تو میں نے ان سے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی یہی کلمات فرماتے سنا ہے جو آپ نے ادا کیے، تو حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : یقینا میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے آخر میں یہ کلمات پڑھتے ہوئے سنا ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ، ك].
(٢) في [ط]: (ذي).
(٣) مجهول؛ لإبهام شيخ عمرو.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31225
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31225، ترقيم محمد عوامة 29871)