٣١٢٢١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمير بن (سعيد) (١) قال: كان عبد اللَّه (يدعو) (٢) (٣) بهذه الدعوات بعد التشهد: اللهم إني أسالك من الخير كله ما علمت (منه) (٤) وما لم أعلم، (وأعوذ بك من الشر كله ما علمت منه وما لم أعلم) (٥)، (اللهم) (٦) إني أسألك خير ما سألك عبادك الصالحون، وأعوذ بك من شر ما عاذ منه عبادك الصالحون، ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا ⦗١٤٣⦘ عذاب النار، ربنا إننا آمنا فاغفر لنا ذنوبنا وكفر عنا سيئاتنا وتوفنا مع الأبرار، ربنا (و) (٧) آتنا ما وعدتنا على رسلك ولا تخزنا يوم القيامة إنك لا تخلف الميعاد (٨).حضرت عمیربن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نماز میں تشھد کے بعد یہ دعائیں مانگا کرتے تھے : اے اللہ ! میں آپ سے تمام بھلائی کا سوال کرتا ہوں چاہے میں جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں، اور میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں مکمل شر سے، میں اس کو جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں، اے اللہ ! میں آپ سے اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس کا آپ کے نیک بندوں نے آپ سے سوال کیا ہے، اور میں اس شر سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں جس کے شر سے آپ کے نیک بندوں نے پناہ مانگی ہے۔ اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں خوبی اور آخرت میں خوبی دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا، اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے، اب ہمارے گناہ بخش دے، اور ہم سے ہماری برائیں دور کر دے، اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا، یقینا تو اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔