حدیث نمبر: 31220
٣١٢٢٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي أنه كان يقول: (١) تم نورك فهديت فلك الحمد، وعظم حلمك فعفوت فلك ⦗١٤٢⦘ الحمد، وبسطت يدك (فأعطيت) (٢) فلك الحمد، ربنا وجهك أكرم الوجوه، وجاهك خير الجاه، وعطيتك أفضل العطية وأهنأها، تطاع ربنا (فتشكر) (٣) وتعصى ربنا فتغفر، تجيب المضطر، وتكشف الضر، وتشفي السقيم وتنجي من الكرب، وتقبل التوبة، وتغفر (الذنب) (٤) لمن شئت، لا يجزئ (بآلائك) (٥) أحد، ولا يحصي (نعماءك) (٦) قول قائل -يعني (كل) (٧) يقول: بعد الصلاة (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عاصم بن ضمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یوں دعا فرماتے تھے : تیرا نور مکمل ہوا پھر تو نے ہدایت عطا فرمائی، پس تیرے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں، اور تیری حلم و برد باری عظیم ہوئی پھر تو نے در گزر فرمایا ، پس تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، اور تیرا ہاتھ کشادہ ہوا، پھر تو نے عطا فرمایا پس تیرے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں، ہمارے رب ! تیرا چہرہ تمام چہروں میں معزز ترین ہے، اور تیرا مرتبہ سب مرتبوں والے سے بہتر ہے، اور تیرا عطیہ افضل ترین اور فائدہ مند عطیہ ہے، ہمارے رب کی اطاعت کی جائے تو وہ ممنون ہوتا ہے، اور ہمارے رب کی نافرمانی کی جائے تو وہ مغفرت کرتا ہے، اور مجبور و پریشان کی پکار کا جواب دیتا ہے، اور تو مصیبت و تکلیف کو دور کرتا ہے، اور تو بیماروں کو شفا دیتا ہے، اور جس کے لئے چاہتا ہے گناہوں کو معاف کردیتا ہے، کوئی شخص بھی تیری نعمتوں کا بدلہ نہیں دے سکتا، اور کہنے والے کی بات تیری نعمتوں کو شمار نہیں کرسکتی، یہ سب کلمات آپ فرض نماز کے بعد کہتے تھے۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (اللهم).
(٢) في [جـ]: (فأعطينا).
(٣) في [ط، ب]: (فتشكي).
(٤) في [ب]: (الذنوب).
(٥) في [هـ]: (آلاءك).
(٦) في [جـ، ك]: (نعماك).
(٧) سقط من: [ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31220
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عاصم بن ضمرة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31220، ترقيم محمد عوامة 29867)